
Monday, 27 July 2015
Only 5 Minutes Pakistanies
04:35
No comments
ریموٹ ہاتھ میں لے کر میں کسی نیوز چینل کی تلاش میں سرگرداں تھا کہ اس فلم پر نظر پڑی جس میں انڈین ایکٹر پاکستان کے علاقے خانیوال میں گھوم رہا تھا۔ میرا چونکنا ایک یقینی امر تھا کیوں کہ انڈیا کی طرف سے کشمیر اور پاکستان پر آج تک ایسی کوئی فلم ریلیز نہیں ھوئی جس میں انڈین را کی سرمایہ کاری نا ہو۔ فلم کے آخری ہی سین تھے جس سے پوری کہانی سمجھنے میں مشکل اور یہاں اس پر انڈین ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے اور سرحد کراس کرنے والے اس بندے کی مدد ایک پاکستانی صحافی کرتا ہے۔
لیکن اصل کہانی یہ نہیں ہے۔ فلم میں جو دکھایا گیا ہے اس کے مطابق کچھ نقاط یہ ہیں جو کوئی بھی زندہ سوچ رکھنےوالا سٹوری دیکھ کر صاف محسوس کر سکتا ہے۔
1. پاکستان کی خارجہ پالیسی انڈیا کے متعلق صحافیوں کو بنانی چاہیے۔ (ویسے اطلاع کےلیے بتا رہا ہوں کہ ہمارے بڑے بڑے کئی صحافی جو پاکستان سے لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہیں وہ سیفما سے منسلک ہیں اور سیفما کو انڈین خفیہ ایجنسی را سپورٹ کرتی ہے)
1. پاکستانی عوام کو کشمیر سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔
2. پاکستان کے صحافی تو بہت ایماندار ہیں سچے ہیں مگر پاکستان کی خفیہ ایجنسیز جھوٹی اور بے ایمان ہیں۔
3. خفیہ طریقے سے سرحد کراس کرنے والے ھندو لوگ جاسوس نہیں ہوتے بلکہ وہ امن کا پیغام پھیلانے والے نیک اور معصوم لوگ ہوتے ہیں
4. پاکستانی آزاد کشمیر کی عوام انڈیا کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔
5. سرحد ایک لکیر ہے اسے توڑ دینا چاہیے۔
6. پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیز میں انتہائی بیوقوف لوگ بیٹھے ہیں۔ (جبکہ عالمی میڈیا ہماری انٹلیجنس ایجنسیز کی کاردگرگی پر بار بار ہماری تعریف کر چکا ہے)
7. پاکستانی عوام سمجھوتہ ایکسپریس اور اس میں قتل ہونے والے پاکستانیوں کی موت کو بھول چکے ہیں۔
8. پاکستانی عوام تو انڈیا کے ساتھ شامل ہونے کےلیے مر رہے ہیں۔
9.پاکستانی عوام صحافیوں کی مدد سے سرحد کو توڑنے کےلیے ہر وقت کوشش کر رہے ہیں (نعوذ بااللہ)
10. پاکستانی افواج ٖضابطہ اخلاق کی پابند نہیں ہیں۔ اور سرحدوں پر پہرا تو دے رہی ہیں مگر پاکستانی عوام جب چاہے اس فوج کو ہٹا کر سرحد توڑ سکتی ہے اور انڈیا میں شامل ہو سکتی ہے۔
یہ وہ چند نقاط تھے جو فلم کا آخری پونا گھنٹہ دیکھنے کے بعد کوئی بھی نیوٹرل سوچ رکھنے والا پاکستانی منٹوں میں دیکھ سکتا ہے۔ پوری فلم دیکھنے کے بجاۓ میں نے اس پر لعنت بھیجنا مناسب سمجھا اور سوچا آپ سے شیئر کروں کہ ایک طرف انڈیا اور ایڈین را میں بیٹھے دماغ اپنی فلم انڈسٹری کے زریعے آپ کے دماغوں سے کھیل رہے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا میڈیا بھی آپ کو منی کی بدنامی اور شیلا کی جوانی میں بڑی کامیابی سے الجھا کر رکھے ہوۓ ہے۔ یہ صورتحال پریشان کن ہے کم سے کم سوشل میڈیا پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی بے حسی کے خلاف ضرور آواز اٹھائیں۔ کہ کشمیر کاز کو مردہ قرار دے کر ہمارا میڈیا پاکستان کے خلاف بننے والی فلمز کو کیوں پروموٹ کرتا ہے؟؟؟ یاد کریں وہ وقت جب پاکستانی فلم وار ریلیز ہونی تھی تو ہمارے میڈیا نے اس کے خلاف کتنا منفی پراپگینڈہ کیا تھا کیوں؟؟؟؟؟؟؟ اور اب بجرنگی بھائی جان کی ریلیز کے بعد ہمارے میڈیا کو دیکھیں کہ اس فلم کو کامیاب کرنے کےلیے کتنی محنت کر رہا ہے کیوں؟؟؟؟؟۔ وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ کر لیا جاۓ کہ ایک ضربِ عضب میڈیا کے خلاف بھی ہو گا۔ انشاء اللہ۔
لیکن اصل کہانی یہ نہیں ہے۔ فلم میں جو دکھایا گیا ہے اس کے مطابق کچھ نقاط یہ ہیں جو کوئی بھی زندہ سوچ رکھنےوالا سٹوری دیکھ کر صاف محسوس کر سکتا ہے۔
1. پاکستان کی خارجہ پالیسی انڈیا کے متعلق صحافیوں کو بنانی چاہیے۔ (ویسے اطلاع کےلیے بتا رہا ہوں کہ ہمارے بڑے بڑے کئی صحافی جو پاکستان سے لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہیں وہ سیفما سے منسلک ہیں اور سیفما کو انڈین خفیہ ایجنسی را سپورٹ کرتی ہے)
1. پاکستانی عوام کو کشمیر سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔
2. پاکستان کے صحافی تو بہت ایماندار ہیں سچے ہیں مگر پاکستان کی خفیہ ایجنسیز جھوٹی اور بے ایمان ہیں۔
3. خفیہ طریقے سے سرحد کراس کرنے والے ھندو لوگ جاسوس نہیں ہوتے بلکہ وہ امن کا پیغام پھیلانے والے نیک اور معصوم لوگ ہوتے ہیں
4. پاکستانی آزاد کشمیر کی عوام انڈیا کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔
5. سرحد ایک لکیر ہے اسے توڑ دینا چاہیے۔
6. پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیز میں انتہائی بیوقوف لوگ بیٹھے ہیں۔ (جبکہ عالمی میڈیا ہماری انٹلیجنس ایجنسیز کی کاردگرگی پر بار بار ہماری تعریف کر چکا ہے)
7. پاکستانی عوام سمجھوتہ ایکسپریس اور اس میں قتل ہونے والے پاکستانیوں کی موت کو بھول چکے ہیں۔
8. پاکستانی عوام تو انڈیا کے ساتھ شامل ہونے کےلیے مر رہے ہیں۔
9.پاکستانی عوام صحافیوں کی مدد سے سرحد کو توڑنے کےلیے ہر وقت کوشش کر رہے ہیں (نعوذ بااللہ)
10. پاکستانی افواج ٖضابطہ اخلاق کی پابند نہیں ہیں۔ اور سرحدوں پر پہرا تو دے رہی ہیں مگر پاکستانی عوام جب چاہے اس فوج کو ہٹا کر سرحد توڑ سکتی ہے اور انڈیا میں شامل ہو سکتی ہے۔
یہ وہ چند نقاط تھے جو فلم کا آخری پونا گھنٹہ دیکھنے کے بعد کوئی بھی نیوٹرل سوچ رکھنے والا پاکستانی منٹوں میں دیکھ سکتا ہے۔ پوری فلم دیکھنے کے بجاۓ میں نے اس پر لعنت بھیجنا مناسب سمجھا اور سوچا آپ سے شیئر کروں کہ ایک طرف انڈیا اور ایڈین را میں بیٹھے دماغ اپنی فلم انڈسٹری کے زریعے آپ کے دماغوں سے کھیل رہے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا میڈیا بھی آپ کو منی کی بدنامی اور شیلا کی جوانی میں بڑی کامیابی سے الجھا کر رکھے ہوۓ ہے۔ یہ صورتحال پریشان کن ہے کم سے کم سوشل میڈیا پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی بے حسی کے خلاف ضرور آواز اٹھائیں۔ کہ کشمیر کاز کو مردہ قرار دے کر ہمارا میڈیا پاکستان کے خلاف بننے والی فلمز کو کیوں پروموٹ کرتا ہے؟؟؟ یاد کریں وہ وقت جب پاکستانی فلم وار ریلیز ہونی تھی تو ہمارے میڈیا نے اس کے خلاف کتنا منفی پراپگینڈہ کیا تھا کیوں؟؟؟؟؟؟؟ اور اب بجرنگی بھائی جان کی ریلیز کے بعد ہمارے میڈیا کو دیکھیں کہ اس فلم کو کامیاب کرنے کےلیے کتنی محنت کر رہا ہے کیوں؟؟؟؟؟۔ وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ کر لیا جاۓ کہ ایک ضربِ عضب میڈیا کے خلاف بھی ہو گا۔ انشاء اللہ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)






